محبت کی تلخ حقیقت
💔 یاسر بیوی ہر محفل میں میرا ہاتھ تھام کر ایسے ہنستی تھی جیسے میں اُس کی دنیا ہوں… مگر گھر کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ مجھے ایسے لفظوں سے توڑتی تھی کہ آہستہ آہستہ میں خود کو ہی غلط سمجھنے لگا 🥀 لوگ اکثر کہتے: “یاسر بھائی، آپ واقعی خوش قسمت ہیں۔ حرا بھ

یاسر کو کبھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ محبت کی سب سے خطرناک شکل وہ ہوتی ہے…
جو لوگوں کے سامنے پھولوں جیسی لگے، مگر تنہائی میں کانٹوں کی طرح روح میں اُترتی جائے۔
حرا جب محفل میں اُس کا ہاتھ تھامتی، تو واقعی یوں لگتا جیسے دنیا کی ہر دعا اُسے مل گئی ہو۔
وہ ہنستی تو لوگ کہتے:
“یار، تم دونوں کو دیکھ کر یقین آتا ہے کہ سچی محبت اب بھی باقی ہے۔”
اور یاسر بھی مسکرا دیتا۔
مگر کسی نے کبھی یہ نہیں دیکھا تھا کہ گھر کا دروازہ بند ہوتے ہی، وہی عورت اپنے لفظوں سے اُس کے وجود پر ایسے وار کرتی تھی جیسے کوئی روز تھوڑا تھوڑا زہر پلاتا ہو۔
“تم میں confidence نام کی چیز ہی نہیں۔”
“تمہارے بغیر بھی میری زندگی بہت اچھی ہو سکتی تھی۔”
“کبھی آئینے میں خود کو غور سے دیکھا ہے؟”
شروع میں یاسر جواب دیتا تھا۔
پھر سمجھانے لگا۔
پھر خاموش رہنے لگا۔
اور آخر میں…
وہ خود سے نفرت کرنے لگا۔
عجیب بات یہ ہے کہ مرد جب ٹوٹتے ہیں تو آواز نہیں کرتے۔
وہ صرف بدل جاتے ہیں۔
یاسر پہلے آئینے میں خود کو دیکھ کر بال ٹھیک کیا کرتا تھا۔
اب وہ جلدی سے نظریں چرا لیتا تھا۔
پہلے دوستوں کے ساتھ ہنستا تھا، اب محفل میں بھی خاموش رہتا۔
پہلے ہر بات پر اپنی رائے دیتا تھا، اب اکثر کہتا:
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو…”
حالانکہ اُسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں کہہ رہی۔
لیکن مسلسل تذلیل انسان کے اندر ایک ایسا شک پیدا کر دیتی ہے…
جہاں سچ بھی اپنی شکل کھو دیتا ہے۔
ایک رات بارش ہو رہی تھی۔
حرا حسبِ عادت غصے میں بہت کچھ کہہ گئی۔
اتنا کہ یاسر کو پہلی بار لگا، شاید واقعی وہ ایک ناکام انسان ہے۔
وہ خاموشی سے بالکونی میں آ کر بیٹھ گیا۔
سامنے سڑک پر بارش گر رہی تھی اور اُسے اچانک اپنے والد کی ایک بات یاد آئی:
“بیٹا، محبت وہ جگہ ہے جہاں انسان خود کو محفوظ محسوس کرے…
اگر وہاں بھی تمہیں خود کو ثابت کرنا پڑے، تو پھر وہ محبت نہیں، امتحان ہے۔”
یاسر کی آنکھوں میں برسوں بعد آنسو آئے تھے۔
اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ حرا سے نہیں…
اُس تصور سے محبت کرتا رہا تھا، جس میں وہ خود کو کسی کی دنیا سمجھتا تھا۔
اور سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ نہیں ہوتا جب کوئی آپ کو برا کہے…
بلکہ وہ ہوتا ہے جب آپ اُس کی باتوں پر یقین کرنا شروع کر دیں۔
کچھ رشتے شور سے نہیں ٹوٹتے۔
وہ خاموشی سے انسان کے اندر مر جاتے ہیں۔
لوگ آج بھی حرا کو بہت caring سمجھتے ہیں۔
اور یاسر آج بھی مسکرا دیتا ہے۔
بس فرق صرف اتنا ہے…
اب اُس کی مسکراہٹ میں محبت نہیں، تھکن ہوتی ہے۔ 🥀

Comments