

خالی کرسی
ہر شام، ٹھیک سات بجے، ہمارے گھر کے ڈرائنگ روم میں ایک کرسی خالی پڑی رہتی تھی۔ یہ کرسی میری والدہ کی تھی۔ نہیں، وہ فوت نہیں ہوئی تھیں۔ وہ زندہ تھیں، صحت مند تھیں، مگر شادی کے بعد سے میری بیوی، صبا، اس کرسی پر کبھی نہیں بیٹھی۔ نہ میں نے کہا تھا، نہ صبا نے کبھی پوچھا۔ بس ایک خاموش سمجھ تھی کہ وہ کرسی "امی کی" ہے۔
Relationships
View all »
خالی کرسی
ہر شام، ٹھیک سات بجے، ہمارے گھر کے ڈرائنگ روم میں ایک کرسی خالی پڑی رہتی تھی۔ یہ کرسی میری والدہ کی تھی۔ نہیں، وہ فوت نہیں ہوئی تھیں۔ وہ زندہ تھیں، صحت مند تھیں، مگر شادی کے بعد سے میری بیوی، صبا، اس کرسی پر کبھی نہیں بیٹھی۔ نہ میں نے کہا تھا، نہ صبا نے کبھی پوچھا۔ بس ایک خاموش سمجھ تھی کہ وہ کرسی "امی کی" ہے۔

جواب نہیں، سوال چاہیے تھا
"تم بدل گئے ہو۔" یہ جملہ کسی لڑائی میں نہیں کہا گیا تھا۔ نہ کسی غصے میں۔ نہ آنسوؤں کے ساتھ۔ عشاء کے بعد، چائے کی پیالی ہاتھ میں لیے، سکون سے بیٹھی ہوئی زینب نے یہ بات کہی، اور پھر اپنی کتاب کا صفحہ پلٹ دیا۔ جیسے کوئی بہت معمولی بات کہہ دی ہو۔

خاموشی کی دیوار
بعض اوقات میاں بیوی کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ نفرت نہیں بلکہ خاموشی ہوتی ہے۔ جب دل کی باتیں زبان تک پہنچنا چھوڑ دیں تو ایک ہی گھر میں رہنے والے دو لوگ اجنبی بن جاتے ہیں۔ یہ کہانی گفتگو، اعتماد اور وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

محبت کی تلخ حقیقت
💔 یاسر بیوی ہر محفل میں میرا ہاتھ تھام کر ایسے ہنستی تھی جیسے میں اُس کی دنیا ہوں… مگر گھر کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ مجھے ایسے لفظوں سے توڑتی تھی کہ آہستہ آہستہ میں خود کو ہی غلط سمجھنے لگا 🥀 لوگ اکثر کہتے: “یاسر بھائی، آپ واقعی خوش قسمت ہیں۔ حرا بھ


