ماں باپ کی دعا
وقت کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا، لیکن اس کے ساتھ رشتے ضرور بدل جاتے ہیں۔ پڑھیے "ماں باپ کی دعا" کا باب 2: "وقت کا پہیہ"، جہاں ایک عام پاکستانی خاندان کی زندگی میں آنے والی خاموش تبدیلیاں، والدین کی قربانیاں، بچوں کے خواب اور وقت کی بے رحم حقیقت ایک جذباتی انداز میں سامنے آتی ہیں۔
وقت کا پہیہ
صبح کی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ گلی کے درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔ سورج ابھی پوری طرح نکلا نہیں تھا، مگر حاجی سلیم حسبِ معمول فجر کی نماز ادا کرکے گھر کے صحن میں بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے۔
کچھ ہی دیر بعد عائشہ نے چائے کا کپ ان کے سامنے رکھتے ہوئے مسکرا کر کہا،
"آج پھر اتنی جلدی جاگ گئے؟"
حاجی سلیم نے چائے کا گھونٹ لیا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے،
"عادتیں عمر کے ساتھ نہیں بدلتیں، عائشہ۔"
عائشہ نے ان کے سفید ہوتے بالوں کو دیکھ کر آہستہ سے کہا،
"لیکن عمر ضرور بدل جاتی ہے۔"
حاجی سلیم چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔
شاید وہ بھی محسوس کرنے لگے تھے کہ وقت پہلے جیسا نہیں رہا۔
ناشتے کی میز پر پہلے جیسی رونق نہیں تھی۔
حمزہ جلدی جلدی موبائل دیکھتے ہوئے ناشتہ کر رہا تھا۔
مریم اپنی یونیورسٹی کے اسائنمنٹ میں مصروف تھی۔
اور احمد ابھی تک کمرے سے باہر نہیں آیا تھا۔
پہلے یہی میز ہنسی سے بھر جاتی تھی۔
اب ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل تھا۔
ہر کسی کے پاس وقت کم تھا۔
"بیٹا، ناشتے کے دوران موبائل رکھ دو۔"
حاجی سلیم نے نرمی سے کہا۔
حمزہ نے نظریں اٹھائے بغیر جواب دیا،
"ابو، بس ایک منٹ..."
یہ ایک منٹ پورے ناشتے پر بھاری پڑ گیا۔
عائشہ نے ماحول بدلنے کی کوشش کی۔
"حمزہ، آج تمہاری پسند کے آلو کے پراٹھے بنائے ہیں۔"
حمزہ نے صرف اتنا کہا،
"امی، ڈائٹ کر رہا ہوں۔"
عائشہ خاموش ہوگئیں۔
انہیں یاد آیا...
یہی حمزہ بچپن میں انہی پراٹھوں کے لیے ضد کیا کرتا تھا۔
دوپہر کو مریم یونیورسٹی سے واپس آئی۔
اس نے دیکھا کہ اس کی ماں صحن میں کپڑے دھو رہی تھیں۔
"امی، آپ نے مجھے فون کیوں نہیں کیا؟ میں آکر کر لیتی۔"
عائشہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
"بیٹی، تم پڑھائی پر دھیان دو۔ گھر کا کام تو چلتا رہتا ہے۔"
مریم نے بالٹی ان کے ہاتھ سے لے لی۔
"گھر میرا بھی ہے، صرف آپ کا نہیں۔"
عائشہ نے بیٹی کے ماتھے کو چوما۔
ماں کے لیے شاید دنیا کا سب سے خوبصورت لمحہ وہ ہوتا ہے جب اولاد بغیر کہے اس کا بوجھ بانٹ لے۔
شام کو حاجی سلیم دفتر سے لوٹے۔
آج ان کے چہرے پر غیر معمولی تھکن تھی۔
انہوں نے جوتے اتارے اور خاموشی سے چارپائی پر بیٹھ گئے۔
عائشہ نے فوراً محسوس کر لیا۔
"سب خیریت ہے؟"
"ہاں..."
لیکن ان کی آواز میں وہ یقین نہیں تھا۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے آہستہ سے کہا،
"آج دفتر میں بتایا گیا ہے کہ اگلے سال میری ریٹائرمنٹ ہے۔"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
عائشہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ جس سایہ دار درخت کے نیچے یہ گھر برسوں سے محفوظ تھا، اب اس کی شاخیں بھی تھکن محسوس کرنے لگی ہیں۔
اسی دوران حمزہ گھر آیا۔
"السلام علیکم!"
"وعلیکم السلام، بیٹا۔"
حمزہ نے اپنے ابو کی طرف دیکھا۔
"کیا ہوا؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں۔"
حاجی سلیم نے مسکرا کر بات ٹال دی۔
"کچھ نہیں، بس دفتر کی تھکن ہے۔"
مگر مریم جان گئی تھی کہ بات صرف تھکن کی نہیں۔
وقت کا پہیہ خاموشی سے ایک نئے موڑ کی طرف بڑھ رہا تھا۔
رات کے کھانے پر حاجی سلیم نے بچوں سے کہا،
"میں تم سب سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔"
سب خاموش ہوگئے۔
"زندگی میں تعلیم ضرور حاصل کرنا، کامیاب بھی بننا... لیکن کبھی ایسا نہ ہو کہ کامیابی کی دوڑ میں اپنا گھر پیچھے رہ جائے۔"
حمزہ نے سر ہلا دیا۔
مریم کی آنکھیں اپنے والد پر ٹکی رہیں۔
احمد شاید ابھی ان باتوں کی گہرائی نہیں سمجھتا تھا۔
لیکن وقت...
وقت ہر بات سمجھا دیتا ہے۔
اسی رات حمزہ کو اپنے دوست کا فون آیا۔
"یار، اگلے مہینے کراچی چلتے ہیں۔ ایک بڑی کمپنی انٹرن شپ دے رہی ہے۔"
حمزہ کی آنکھوں میں خواب چمکنے لگے۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
گھر کے اندر اس کے والدین سو چکے تھے۔
اور باہر...
ایک نئی دنیا اس کا انتظار کر رہی تھی۔
اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ بعض اوقات انسان اپنے خوابوں کی طرف چلتے چلتے، ان لوگوں سے دور ہو جاتا ہے جنہوں نے اسے خواب دیکھنا سکھایا تھا۔

Comments