Urdu Stories

سیڑھیوں کے نیچے بند کمرا

سیڑھیوں کے نیچے ایک بند کمرہ… ہر روز سناء خاموشی سے وہاں جاتی، دروازہ بند ہوتا اور چند لمحوں بعد سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا۔ علی کے دل میں شک بڑھنے لگا، سوالوں نے اسے اندر سے گھیر لیا کہ آخر اس کمرے میں ایسا کیا ہے جو سب سے چھپا ہوا ہے؟

Just Bare Stories
2026-05-16
4 min read
سیڑھیوں کے نیچے بند کمرا

شام کا وقت تھا۔

بارش ابھی ابھی رکی تھی اور گھر کی دیواروں سے مٹی کی خوشبو آ رہی تھی۔

علی نے جوتے اتارے ہی تھے کہ اس کی نظر پھر اسی دروازے پر پڑی…

سیڑھیوں کے نیچے والا چھوٹا سا کمرہ۔

دروازہ بند تھا۔

اور ہمیشہ کی طرح اس پر تالا لگا ہوا تھا۔

کچن سے برتنوں کی آواز آ رہی تھی۔

ثناء ایسے کام کر رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

لیکن آج علی کے دل میں عجیب بےچینی تھی۔

“آخر وہاں ہے کیا؟”

اس نے دل ہی دل میں سوچا۔

پچھلے کئی مہینوں سے وہ یہی دیکھ رہا تھا۔

سناء کبھی پرانے کپڑے لے کر جاتی… کبھی کوئی ڈبہ… کبھی خاموشی سے اندر چند منٹ گزارتی اور فوراً تالا لگا دیتی۔

علی نے کئی بار پوچھنا چاہا…

مگر ہر بار سناء مسکرا کر بات بدل دیتی۔

مگر اب شک بڑھنے لگا تھا۔

اس رات علی دیر تک جاگتا رہا۔

اس کے ذہن میں عجیب عجیب خیال آنے لگے۔

“کیا وہ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہے؟”

“کیا کسی سے بات کرتی ہے وہاں؟”

“یا…؟”

شک انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔

اگلے دن علی آفس نہیں گیا۔

اس نے بہانہ بنایا کہ طبیعت خراب ہے۔

سناء حسبِ معمول گھر کے کام کرتی رہی۔

دوپہر کے قریب اس نے ایک پرانا بیگ اٹھایا… ادھر ادھر دیکھا… اور آہستہ سے اسی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

علی کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

جیسے ہی سناء اندر گئی، علی خاموشی سے دروازے کے قریب پہنچ گیا۔

کمرے کے اندر سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔

علی حیران رہ گیا۔

وہ کچھ لمحے رکا… پھر اچانک دروازہ کھول دیا۔

اور اگلے ہی لمحے…

اس کے قدم وہیں جم گئے۔

چھوٹے سے کمرے میں ایک پرانی الماری تھی…

کچھ ڈبے تھے…

اور دیواروں پر درجنوں تصویریں لگی تھیں۔

ان تصویروں میں علی تھا۔

کہیں وہ ہنس رہا تھا…

کہیں اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا تھا…

کہیں پہلی تنخواہ کے دن کی تصویر تھی…

کہیں ان کی شادی کی تصویر۔

کمرے کے ایک کونے میں ایک چھوٹی سی میز تھی جس پر پرانے خطوط، بل، ٹوٹی گھڑی، اور چند رسیدیں رکھی تھیں۔

سناء گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔

“آپ… آپ یہاں کیوں آئے؟”

علی کچھ بول ہی نہیں پایا۔

پھر اس کی نظر ایک ڈائری پر پڑی۔

اس نے ڈائری کھولی۔

پہلے صفحے پر لکھا تھا:

“یہ کمرہ سامان کا نہیں…
ہماری زندگی کے ان لمحوں کا ہے
جو وقت کے ساتھ کہیں کھو جاتے ہیں۔”

علی خاموش ہو گیا۔

سناء کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

“آپ ہمیشہ کہتے تھے نا… کہ انسان کامیاب ہو کر اپنے پرانے دن بھول جاتا ہے۔

میں نہیں چاہتی تھی کہ ہم کبھی وہ دن بھولیں جب ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔”

اس نے ایک پرانی رسید اٹھائی۔

“یہ وہ مہینہ تھا جب آپ نے اپنی دوائی چھوڑ کر میرے لیے عید کا جوڑا لیا تھا…”

پھر اس نے ایک ٹوٹا ہوا موبائل دکھایا۔

“یہ وہ فون ہے جو آپ نے تین سال استعمال کیا تاکہ میرے لیے فریج خرید سکیں…”

علی کی آنکھیں بھر آئیں۔

جس عورت پر وہ شک کر رہا تھا…

وہ تو خاموشی سے ان کی محبت سنبھال رہی تھی۔

اس دن علی نے ایک بات سیکھی:

“ہر راز دھوکا نہیں ہوتا۔
کچھ خاموشیاں محبت بھی چھپا رہی ہوتی ہیں۔”

اور سناء نے بھی اس دن کے بعد اس کمرے پر تالا لگانا چھوڑ دیا۔

کیونکہ بعض رشتوں میں اعتماد…

تالوں سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔

0

Comments

No comments yet. Start the conversation.