Relationships

جواب نہیں، سوال چاہیے تھا

"تم بدل گئے ہو۔" یہ جملہ کسی لڑائی میں نہیں کہا گیا تھا۔ نہ کسی غصے میں۔ نہ آنسوؤں کے ساتھ۔ عشاء کے بعد، چائے کی پیالی ہاتھ میں لیے، سکون سے بیٹھی ہوئی زینب نے یہ بات کہی، اور پھر اپنی کتاب کا صفحہ پلٹ دیا۔ جیسے کوئی بہت معمولی بات کہہ دی ہو۔

Just Bare Stories
2026-06-14
4 min read
جواب نہیں، سوال چاہیے تھا

میرا نام عمر ہے۔ عمر چونتیس سال۔ شادی کو آٹھ سال ہو گئے تھے۔

میں نے فوراً جواب دیا: "کیسے بدل گیا؟ میں تو وہی ہوں۔"

اس نے کتاب سے نظر نہیں اٹھائی۔ "ہاں۔ شاید وہی ہو۔ مسئلہ یہی ہے۔"

میں نے یہ بات اس وقت سن کر نظرانداز کر دی۔ شادی کے آٹھ سال میں آدمی کچھ جملے ایسے سیکھ لیتا ہے جنہیں وہ "بس عورتوں کی موڈ کی بات ہے" کہہ کر ٹال دیتا ہے۔ میں نے بھی ٹال دیا۔

مگر وہ جملہ رات کو سونے کے بعد بھی میرے ساتھ رہا۔

اگلے دن دفتر میں ایک میٹنگ کے دوران میں نے اپنی کیلنڈر ایپ کھولی۔ کچھ ڈھونڈنا تھا۔ نظر اچانک پچھلے مہینوں پر چلی گئی۔ میں نے بے خیالی میں اپنے اور زینب کے درمیان ہونے والی "بات چیت" کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ مطلب اصل بات چیت۔ نہ یہ کہ "کھانا کھا لیا؟"، "بچوں کو دوا دے دی؟"، "گاڑی کی قسط جمع کروا دی؟"۔

یہ سب ضروری باتیں تھیں۔ مگر یہ بات چیت نہیں تھی۔ یہ صرف نظام چلانے کی رپورٹس تھیں۔ جیسے دو شراکت دار کوئی کمپنی چلا رہے ہوں اور روزانہ کی میٹنگ میں صرف "اسٹیٹس اپڈیٹ" دے رہے ہوں۔

پچھلی بار جب میں نے زینب سے یہ پوچھا تھا کہ "تم کیسا محسوس کر رہی ہو؟" — مجھے یاد کرنا پڑا۔

اور مجھے یاد نہیں آیا۔

شام کو گھر آیا تو زینب باورچی خانے میں تھی۔ بچے اپنے کمرے میں ہوم ورک کر رہے تھے۔ میں نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اسے دیکھا۔ وہ سبزی کاٹ رہی تھی۔ اس کے بال ایک طرف کو گرے ہوئے تھے۔ اس نے کوئی پرانی شرٹ پہنی ہوئی تھی جو میں نے کبھی غور سے نہیں دیکھی تھی۔

میں نے پوچھا: "یہ شرٹ نئی ہے؟"

اس نے مجھے دیکھا، پھر سبزی کی طرف۔ "یہ تین سال پرانی ہے، عمر۔"

میں خاموش ہو گیا۔

رات کو بچے سو گئے تو میں نے زینب سے کہا: "تمہاری بات صحیح تھی۔ میں بدل گیا ہوں۔"

اس نے کتاب بند کی۔ پہلی بار اس کی نظروں میں حیرانی تھی۔ شاید اسے امید نہیں تھی کہ میں اس بات کو دوبارہ اٹھاؤں گا۔

"کیسے؟" اس نے پوچھا۔ آواز میں نرمی تھی، طعنہ نہیں۔

میں نے کہا: "پہلے میں تم سے سوال کرتا تھا۔ اب میں صرف جواب دیتا ہوں۔"

اس نے سر جھکا لیا۔

میں نے بات جاری رکھی: "یاد ہے، شادی کے پہلے سال، میں دفتر سے فون کرتا تھا اور پوچھتا تھا، 'آج کیا ہوا؟ کیسا دن گزرا؟' اور تم پوری بات سناتی تھیں، چھوٹی چھوٹی باتیں بھی۔ میں اب بھی فون کرتا ہوں، مگر صرف یہ پوچھنے کے لیے کہ کیا لانا ہے، یا کیا بل جمع کروانا ہے۔"

زینب کی آنکھوں میں نمی آ گئی، مگر وہ مسکرا رہی تھی۔ "تمہیں یاد ہے یہ سب؟"

"اب یاد آیا۔"

اس رات ہم نے کوئی بڑی بات نہیں کی۔ کوئی ڈرامائی معافی نہیں ہوئی، کوئی آنسو نہیں بہے۔ بس میں نے اس سے پوچھا: "آج تمہارا دن کیسا تھا؟"

اور پہلی بار کئی سالوں بعد، اس نے واقعی جواب دیا — مکمل، تفصیل سے، چھوٹی چھوٹی باتوں کے ساتھ۔ کس طرح صبح دودھ والے نے دیر کر دی، کس طرح ہمسائی نے کوئی بات سنائی، کس طرح بیٹے نے ضد کی۔

میں نے صرف سنا۔

کوئی حل نہیں دیا، کوئی مشورہ نہیں دیا، فون بھی ہاتھ میں نہیں تھا۔

سونے سے پہلے زینب نے کہا: "تم نے کب سے یہ نہیں کیا تھا، پتا ہے؟"

میں نے کہا: "نہیں۔"

اس نے مسکرا کر کہا: "کوئی بات نہیں۔ آج کر لیا۔ یہی کافی ہے۔"

اگلی صبح ناشتے کی میز پر، میں نے دیکھا کہ زینب نے وہی پرانی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ مگر اس بار وہ مسکرا رہی تھی۔

شاید رشتے ایک دن میں نہیں ٹوٹتے۔ نہ ایک دن میں جڑتے ہیں۔

وہ روز کے ان چھوٹے سوالوں سے بنتے ہیں، جو ہم پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں — اور پھر ایک دن دوبارہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔

0

Comments

No comments yet. Start the conversation.