خالی کرسی
ہر شام، ٹھیک سات بجے، ہمارے گھر کے ڈرائنگ روم میں ایک کرسی خالی پڑی رہتی تھی۔ یہ کرسی میری والدہ کی تھی۔ نہیں، وہ فوت نہیں ہوئی تھیں۔ وہ زندہ تھیں، صحت مند تھیں، مگر شادی کے بعد سے میری بیوی، صبا، اس کرسی پر کبھی نہیں بیٹھی۔ نہ میں نے کہا تھا، نہ صبا نے کبھی پوچھا۔ بس ایک خاموش سمجھ تھی کہ وہ کرسی "امی کی" ہے۔

میری شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے۔ ہم اپنے گھر میں رہتے تھے، الگ، مگر امی ہر ہفتے آتیں اور وہی کرسی، جو ہم نے خاص طور پر ان کے لیے رکھی تھی، خالی پڑی رہتی۔
ایک شام میں دفتر سے دیر سے آیا۔ گھر میں داخل ہوا تو دیکھا صبا اس کرسی پر بیٹھی ہے۔ ہاتھ میں چائے کا کپ۔ ٹانگیں آرام سے، تھکی ہوئی۔
میں نے بے دھیانی میں کہا: "وہ امی کی کرسی ہے۔"
صبا نے فوراً اٹھنے کی کوشش کی۔ معذرت کرنے لگی۔ "سوری، میں بس... میری ٹانگوں میں درد تھا، اور یہ کرسی قریب تھی۔"
میں نے کچھ نہیں کہا۔ مگر وہ رات مجھے بے چین کر گئی۔
اس رات سونے سے پہلے میں نے سوچا — یہ کرسی کس کی ہے؟ امی کی، یا میری ماں کی یاد کی؟ اور صبا، جو اس گھر کی مالکن ہے، وہ اپنے ہی گھر میں ایک کرسی پر بیٹھنے کے لیے معذرت کیوں کر رہی ہے؟
پچھلے پانچ سالوں کا حساب کرنے بیٹھا تو کئی چھوٹی چھوٹی باتیں یاد آئیں۔
صبا نے کبھی میرے کمرے کی الماری کو "اپنی" نہیں کہا۔ ہمیشہ کہتی، "تمہاری الماری۔" حالانکہ آدھے کپڑے اس کے تھے۔
صبا نے کبھی ڈرائنگ روم کی سجاوٹ نہیں بدلی، جو شادی سے پہلے کی تھی۔ کہتی، "یہ بہت اچھی لگ رہی ہے، کیوں بدلوں؟"
صبا کھانے میں ہمیشہ پوچھتی، "تمہیں کیا پسند ہے؟" مگر کبھی یہ نہیں بتاتی کہ خود اسے کیا پسند ہے۔
میں نے یہ سب اس وقت "اچھی بیوی" کی نشانیاں سمجھا تھا۔
اب سمجھ آیا — یہ سمجھوتے تھے، جو وہ خاموشی سے کرتی رہی، اور میں نے کبھی پوچھا ہی نہیں۔
اگلے دن میں نے ایک کام کیا۔
شام کو جب صبا کچن میں تھی، میں نے وہ کرسی اٹھائی اور اسے ہمارے کمرے میں لے گیا، بالکل صبا کی پسندیدہ جگہ پر، کھڑکی کے پاس، جہاں شام کو ہوا آتی تھی اور وہ اکثر کھڑی ہو کر باہر دیکھتی تھی۔
جب صبا کمرے میں آئی اور کرسی دیکھی، تو رک گئی۔
"یہ... یہ امی کی کرسی ہے۔"
میں نے کہا: "نہیں۔ یہ گھر کی کرسی ہے۔ اور یہ گھر تمہارا بھی ہے، صبا۔ پانچ سال سے ہے۔ مگر شاید میں نے کبھی تمہیں یہ احساس نہیں دلایا۔"
صبا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ ہنسنے لگی، رونے کے ساتھ ساتھ۔ "یہ کرسی کی بات نہیں، عمر۔ یہ بات بھی نہیں کہ تم نے کیا کہا یا نہیں کہا۔ بات یہ ہے کہ میں ہمیشہ مہمان جیسا محسوس کرتی تھی۔ اچھا مہمان، خوش مہمان، مگر مہمان۔"
میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا: "اب نہیں۔"
اس شام صبا نے پہلی بار ڈرائنگ روم کی ایک تصویر بدلی — اپنی پسندیدہ تصویر لگائی۔ پہلی بار اپنی پسند کا کھانا بنایا، صرف اپنے لیے، اور مجھے بھی کھانے کو کہا چاہے میں نے منع کیا۔
اور وہ کرسی، جو پانچ سال خالی رہی، اب ہر شام صبا کے پاس ہوتی ہے — کھڑکی کے پاس، چائے کا کپ ہاتھ میں، اور چہرے پر وہ سکون جو "گھر" کا احساس دیتا ہے، نہ کہ "مہمان خانے" کا۔
کبھی کبھی محبت کا مطلب الفاظ نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ ایک کرسی کی جگہ بدلنا، کسی کو پوری زندگی کا "تعلق" دے دیتا ہے۔

Comments