Relationships

خاموشی کی دیوار

بعض اوقات میاں بیوی کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ نفرت نہیں بلکہ خاموشی ہوتی ہے۔ جب دل کی باتیں زبان تک پہنچنا چھوڑ دیں تو ایک ہی گھر میں رہنے والے دو لوگ اجنبی بن جاتے ہیں۔ یہ کہانی گفتگو، اعتماد اور وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

Just Bare Stories
2026-06-05
4 min read
خاموشی کی دیوار

بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشوں پر ایسے دستک دے رہی تھیں جیسے کوئی پرانا مسافر برسوں بعد اپنے شہر لوٹا ہو۔ شام کی دھندلی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی اور دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اس خاموشی کو اور گہرا کر رہی تھی جو اس گھر کا مستقل حصہ بن چکی تھی۔

علی صوفے پر بیٹھا موبائل کی اسکرین میں گم تھا۔ چند قدم کے فاصلے پر مریم باورچی خانے میں کھڑی چائے بنا رہی تھی۔ دونوں ایک ہی گھر میں تھے، ایک ہی چھت کے نیچے سانس لے رہے تھے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے میلوں پر محیط معلوم ہوتے تھے۔

یہ کہانی کسی فلمی جھگڑے یا غیر معمولی حادثے کی نہیں۔ یہ آج کے ہزاروں گھروں کی کہانی ہے، جہاں مسئلہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ باتیں ختم ہو جاتی ہیں۔

کبھی یہی علی تھا جو دفتر سے واپسی پر دروازہ کھلتے ہی مریم کو آواز دیتا تھا۔ کبھی یہی مریم تھی جو اس کے دن بھر کے قصے بڑے شوق سے سنتی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ذمہ داریاں بڑھتی گئیں، کام کا دباؤ بڑھتا گیا، اور گفتگو کم ہوتی گئی۔

ایک دن مریم نے شکایت کی۔

"آپ کو اب گھر سے زیادہ موبائل سے محبت ہے۔"

علی نے سر اٹھائے بغیر جواب دیا۔

"سارا دن کام کرتا ہوں، تھوڑا سا وقت اپنے لیے بھی چاہیے۔"

بات معمولی تھی، مگر دل پر لگ گئی۔

پھر ایسی کئی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوئیں۔ کوئی بڑا جھگڑا نہیں ہوا، کوئی اونچی آواز نہیں اٹھی، لیکن خاموشی کی ایک اینٹ روز دیوار میں لگتی گئی۔

چند ماہ بعد ان کی زندگی عجیب موڑ پر پہنچ گئی۔ صبح سلام، رات خدا حافظ، اور درمیان میں ضرورت کے چند جملے۔

ایک رات علی کی نظر میز پر رکھی ایک ڈائری پر پڑی۔ مریم جلدی میں شاید اسے بند کرنا بھول گئی تھی۔

اس نے ڈائری کھولنے کا ارادہ نہیں کیا، مگر ایک صفحہ ہوا کے جھونکے سے پلٹ گیا۔

پہلی سطر پر نظر پڑی۔

"کاش وہ جانتا کہ مجھے اس سے شکایت نہیں، صرف اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔"

علی کے ہاتھ لرز گئے۔

اس نے مزید نہیں پڑھا، مگر یہی ایک جملہ اس کے دل میں اتر گیا۔

اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ سمجھتا رہا مریم ہر وقت ناراض رہتی ہے، جبکہ حقیقت میں وہ صرف اس کی توجہ چاہتی تھی۔

اگلے دن دفتر سے واپسی پر اس نے معمول کے مطابق موبائل نہیں اٹھایا۔ وہ سیدھا باورچی خانے میں گیا جہاں مریم رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی۔

"چائے پیو گی؟"

مریم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

"آپ بنائیں گے؟"

"اگر خراب بن گئی تو معاف کر دینا۔"

کئی مہینوں بعد دونوں ہنسے تھے۔

چند دن بعد علی نے مریم سے کہا:

"مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔"

مریم کا دل دھڑکنے لگا۔ اس نے سوچا شاید کوئی بڑا مسئلہ ہے، شاید کوئی ایسی بات جو ان کے رشتے کو مزید کمزور کر دے۔

علی نے آہستہ سے کہا:

"میں نے تمہاری ڈائری کا ایک جملہ پڑھ لیا تھا۔"

مریم کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر علی بولا:

"اور اس ایک جملے نے مجھے سمجھا دیا کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے ناراض نہیں تھے، ہم دونوں ایک دوسرے کو یاد کر رہے تھے۔"

مریم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

وہ آنسو غصے کے نہیں تھے، بلکہ اس احساس کے تھے کہ برسوں سے جس بات کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی تھی، وہ آخرکار سمجھ لی گئی تھی۔

کھڑکی کے باہر بارش اب بھی برس رہی تھی، مگر اس گھر کے اندر خاموشی کی دیوار میں پہلی دراڑ پڑ چکی تھی۔

اس رات دونوں نے کئی گھنٹے باتیں کیں۔ پرانے دنوں کی، غلط فہمیوں کی، خوابوں کی، اور ان خاموش لمحوں کی جو ان کے درمیان فاصلے پیدا کرتے رہے تھے۔

اور تب انہیں احساس ہوا کہ رشتے بڑے حادثوں سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ ان چھوٹی چھوٹی خاموشیوں سے کمزور ہوتے ہیں جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

سبق:

میاں بیوی کے درمیان محبت ختم ہونے سے پہلے گفتگو ختم ہوتی ہے۔ اگر دل کی بات وقت پر زبان تک پہنچ جائے تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ خاموشی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اکثر نئے مسائل کی ابتدا ہوتی ہے۔

0

Comments

No comments yet. Start the conversation.