Urdu Stories

رشتوں کی قیمت

"کبھی کبھی انسان ساری دنیا جیت لیتا ہے، مگر وہ لوگ ہار دیتا ہے جن کے لیے اس نے جیتنے کا خواب دیکھا تھا۔"

2026-08-01
4 min read
رشتوں کی قیمت

گھر کی خوشبو

صبح کی اذان ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ محلے کی تنگ گلی میں واقع ایک چھوٹے سے گھر کی کھڑکی سے ہلکی سی روشنی باہر جھانکنے لگی۔

گھر بڑا نہیں تھا، مگر اس میں بسنے والے دل بڑے تھے۔

باورچی خانے سے چائے کی خوشبو پورے گھر میں پھیل رہی تھی۔ چولہے پر رکھی کیتلی دھیرے دھیرے ابل رہی تھی اور ساتھ ہی ایک ماں خاموشی سے اپنے بچوں کے لیے ناشتے کی تیاری میں مصروف تھی۔

اس کا نام عائشہ تھا۔

چہرے پر تھکن ضرور تھی، مگر مسکراہٹ آج بھی ویسی ہی تھی جیسی برسوں پہلے اس گھر میں پہلی بار قدم رکھتے وقت تھی۔

دوسری طرف، صحن میں ایک شخص وضو کے بعد جائے نماز لپیٹ رہا تھا۔

یہ حاجی سلیم تھے۔

ایک سرکاری دفتر میں معمولی ملازم، مگر اپنے بچوں کی نظر میں دنیا کے سب سے مضبوط انسان۔

ہر صبح وہ گھر سے نکلنے سے پہلے ایک ہی دعا کرتے۔

"یا اللہ! میرے بچوں کو مجھ سے بہتر انسان بنانا۔"

انہوں نے کبھی بڑی گاڑی کا خواب نہیں دیکھا تھا۔

کبھی بڑا بنگلہ نہیں مانگا تھا۔

ان کی سب سے بڑی خواہش صرف یہ تھی کہ ان کے بچے اچھے انسان بنیں۔

اسی دوران کمرے کا دروازہ زور سے کھلا۔

"امی! میری یونیفارم کہاں ہے؟"

یہ سولہ سالہ حمزہ تھا۔

ہر کام آخری وقت پر کرنے کی عادت۔

عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا،
"بیٹا، کل رات تم نے خود ہی تو کرسی پر رکھی تھی۔ ذرا غور سے دیکھو۔"

حمزہ نے دو منٹ ڈھونڈنے کے بعد وہیں سے یونیفارم اٹھا لی جہاں اس کی ماں نے بتایا تھا۔

شرمندہ ہو کر بولا،
"امی آپ کو ہر چیز کیسے یاد رہتی ہے؟"

عائشہ نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔

"ماں کو اپنے بچوں کی چیزیں نہیں بھولتیں، بیٹا۔"

اسی وقت ایک نرم آواز سنائی دی۔

"امی، میں نے ناشتے کی پلیٹیں لگا دی ہیں۔"

یہ مریم تھی۔

گھر کی سب سے بڑی اولاد۔

اسے دوسروں کی مدد کرنا پسند تھا۔

وہ اپنی ماں کے چہرے کی تھکن اکثر خاموشی سے پڑھ لیا کرتی تھی۔

چھوٹا بیٹا احمد ابھی تک کمبل میں لپٹا ہوا تھا۔

حاجی سلیم اس کے پاس گئے۔

"شہزادے، سورج تو کافی دیر پہلے جاگ گیا ہے۔"

احمد نے آنکھیں بند رکھتے ہوئے جواب دیا،

"ابو بس پانچ منٹ اور"

حاجی سلیم ہنس پڑے۔

"یہ پانچ منٹ دنیا کے سب سے لمبے پانچ منٹ ہوتے ہیں۔"

پورے گھر میں ہنسی گونج اٹھی۔

یہ گھر امیر نہیں تھا۔

نا ہی یہاں قیمتی فرنیچر تھا۔

لیکن یہاں ایک ایسی دولت تھی جو بازاروں میں نہیں ملتی۔

اپنائیت۔

ناشتے کے دوران حاجی سلیم نے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

"آج شام سب جلدی گھر آ جائیں۔"

حمزہ نے پوچھا،
"کوئی خاص بات ہے ابو؟"

انہوں نے مسکرا کر جواب دیا،

"ہاں، خاص بات ہے. آج میری تنخواہ ملی ہے۔"

احمد خوشی سے اچھل پڑا۔

"پھر آج بریانی؟"

حاجی سلیم نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

"ان شاء اللہ۔"

مریم خاموش بیٹھی اپنے والد کو دیکھ رہی تھی۔

وہ جانتی تھی کہ ہر مہینے تنخواہ آنے سے پہلے ابو کتنی فکر میں رہتے ہیں۔

بجلی کا بل۔

گھر کا کرایہ۔

بچوں کی فیس۔

دوائیاں۔

اور پھر بھی وہ کبھی شکایت نہیں کرتے تھے۔

ناشتہ ختم ہوا۔

سب اپنے اپنے کام پر روانہ ہوگئے۔

عائشہ دروازے پر کھڑی ہر ایک کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔

جب گلی سنسان ہوگئی تو اس نے آہستہ سے آسمان کی طرف دیکھا اور دعا کی۔

"یا اللہ! میرے بچوں کو ہمیشہ ایک دوسرے کا سہارا بنائے رکھنا۔"

اسے کیا معلوم تھا.

کہ وقت کی آندھیاں اکثر سب سے مضبوط درختوں کو بھی آزما کر ہی گزرتی ہیں۔

اور اس چھوٹے سے گھر کی آزمائش ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی.

0

Comments

No comments yet. Start the conversation.